زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی ہے ۔ اسمیں نشیب و فراز آتے ہی رہتے ہیں لہذاٰ انسانیت کی بقا کا تقاضا یہی ہے کہ انسان جب فراز پر ہو تو اللہ کا شکر ادا کرتا رہے اور نشیب کی تاریکیوں میں صبر کے دامن کو تھامتے ہوۓ امید کے چراغ جلاۓ رکھے کہ یہی چراغ آپ کو وہ کرن محسوس کراتا ہے جو بلندیوں پہ نہ سہی مگر ایک حسین خوبصورت زندگی کی طرف لے جاتا ہے ۔ آزمائش کے دور میں یقین مانیں جس قدر آپ آزماۓ جاتے ہیں اجر بھی اس قدر ہے۔ یہ کتاب امید کے چراغ جلا کر لکھی گئی ہے جو میں نے اپنے شائقین کے نذر کیا ہے امید ہے شائقین کو پسند آۓ گی ایک چھوٹی سی کاوش میرے والدین اور شائقین کے نام۔۔ خامیوں کے لۓ معذرت خواہ ہوں۔ از شیماء فرحین عبداللہ خا